دل میں میٹھے میٹھے درد کے پھول کِھلے
پھر یادوں کی ہوا چلی پھر شام ہوئی
عشق سفر
تھا تنہائی کے صحرا کا
اُن سے رسم و راہ تو دو اِک گام ہوئی
دل میں میٹھے میٹھے درد
کے پھول کِھلے
تیری خاطر تیرا نام نہ لیتے تھے
لیکن چُپ کی بات بہت بدنام ہوئی
دل
میں میٹھے میٹھے درد کے پھول کِھلے
کون پکارے گا یوں تجھ کو دیکھ نہ جا
دل کی اِک
اِک دھڑکن تیرا نام ہوئی
دل میں میٹھے میٹھے درد کے پھول کِھلے
جانے کیسا خواب تھا
برسوں بیت گئے
جب سے آنکھیں کھولیں نیند حرام ہوئی
دل میں میٹھے میٹھے درد کے پھول
کِھلے

Comments
Post a Comment