فرقہ واریت کا عفریت
فرقہ واریت کا عفریت
انتہائی دُکھ کے ساتھ تحریر کررہا ہوں کہ وطنِ عزیز پاکستان میں مجھے اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے فِرقے تو بہت دکھائی دیتے ہیں لیکن اسلام کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ مذہبی آکٹوپس بہت دکھائی دیتے ہیں، یہ وہ آکٹوپس ہیں جنہوں نے پوری قوم کو اپنے آہنی شکنجوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہر فرقہ کی اپنی اپنی الگ عبادت گاہ ہے ، جہاں دن رات اس فرقہ واریت کا بڑے زور شور سے پرچار کیا جاتا ہے۔ اور ہر فرقے کا مبلغ خود کو حق پر ثابت کرنے کے لئے من گھڑت احادیث و بے سرو پا واقعات کا سہارا لے کر شب و روز اس معصوم قوم کو اپنے فرقے کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبورکرنے میں مصروف ہے۔ فلموں اور ٹی وی کے اداکار اتنی عمدہ اداکاری نہیں کرسکتے جس قدر عمدہ اداکاری یہ مذہبی اور سیاسی ٹھیکیدار کرتے ہیں، اور ممبرِ رسول صلعم پر بیٹھ کر ایسی ایسی جھوٹی روایات بیان کرتے ہیں
کہ الامان
ان مذہبی سکالرز کی نفرت انگیز تقاریر و لٹریچر نے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی بجائے تفریق کو جنم دیا ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ عوام میں اپنے سے متصادم فرقے کے حامل و پیروکاروں کے لئے بے پناہ نفرت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ نماز میں بھی دوسرے فرقے کے حامل شخص کے ساتھ کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے۔ عوام دوسرے فرقے کی مسجد میں نماز ادا کرنے سےبھی گریزاں ہیں۔ کیوں؟ وجہ یہی تفرقہ بازی ہے
پاکستان میں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کے لئے کسی نہ کسی مذہبی فرقے کی دستار تیار
کرلی جاتی ہے۔پیدائش کے فوری بعد جب اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے تو اس کے لئے بھی والدین کے اپنے فرقے کے حامل کسی شخص سے دلوائی جاتی ہے ابھی وہ سنِ شعورکو بھی نہیں پہنچا ہوتا کہ اس کے سر پر وہ تیار شدہ مسلکی دستار سجا کران کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ بھئی خدا کے لئے پہلے اس بچے کو ذرا سمجھ بُوجھ تو آنے دیں، اسے گھر پر ہی قرآن و احادیث کی روشنی میں تعلیم دینے کی کوشش کریں۔ اسے فرقہ واریت سے ہٹ کر دین کی اصل بنیادی باتیں بتلائیں، بڑا ہوکر وہ فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے اپنے لئے کوئی دینی راہ خود ہی تلاش کر لے گا۔ لازمی نہیں کہ والدین جس مسلک یا فرقہ کے پیروکارہوں وہ ہی سچا ہو۔ حضرت ابراہیم ؑ کے والدین بھی تو بتوں کی پوجا کرتے تھے، اگر اللہ پاک نے انہیں صراۃِ مستقیم پر چلایا تھا تو وہ خالقِ کائنات آپ کے بچے کو بھی دینِ حق پر چلانے پر قادر ہے اس کے دینی معاملات پر اسے مجبور کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔
کتنی ستم ظریفی ہے کہ دنیاوی تعلیم کے حصول کے لئے تو والدین بہت سوچ بچار کرتے ہیں کہ کہیں ہمارے سپوت کا مستقبل برباد نہ ہوجائے، اس مقصد کے پیشِ نظر مہنگے سے مہنگے تعلیمی ادارے کا انتخاب کیا جاتا ہے لیکن صد حیف کہ اس کی اُخروی اور ابدی زندگی کے بارے میں والدین نے کبھی اتنی سوچ بچار سے کام نہیں لیا۔ والدین کوکسی صورت یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے بچوں کو کسی فرقے کا پیروکار ہونے پر اصرار کریں، انہیں چاہیئے کہ وہ عقلِ سلیم سے کام لیتے ہوئے قرآنِ کریم کا پہلے خود باترجمہ مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں اپنے اہلِ خانہ کو رہنمائی فراہم کریں۔ بصورتِ دیگر ہم قعرِ مذلت میں ڈوبتے چلے جائیں گے۔ موجودہ دور میں ہر مذہب کے سکالر نے نفرت کو جنم دیا ہے بھلے اس کا تعلق ہندو مت سے ہو یا بدھ مت سے،عیسائی ہو یا یہودی، مسلمان ہو یا پارسی۔ یہ وہ عفریت ہے جو ہر معاشرے میں پنپ رہا ہے ان مذہبی ٹھیکیداروں نے ہر دور میں مثبت کی بجائے منفی رویوں کو جنم دیا ہے۔ فرقہ واریت کا یہ وائرس کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ عفریت اب تک لاکھوں لوگوں کو نگل چکا ہے اور کروڑوں انسانوں کو ایک وبال میں مبتلا کرچکا ہے۔ جس طرح کرونا نے دنیا کے نظامِ حیات کو متاثرکیا ہے اسی طرح اس مذہبی وائرس نے دنیا سے پیار و محبت، اخلاص و یگانگت اور بھائی چارے کی فضا کو وائرس زدہ کررکھا ہے۔
ان کی باہمی تفریق کا یہ عالم ہے کہ کرونا کے ہاتھوں مجبور و بے بس بنی نوع انسان کے لئے ایک فرقہ عبادت گاہ میں عبادت کو ترجیح دیتا ہے تو دوسرے فرقے کا مبلغ کہتا ہے کہ نہیں عوامی مفاد کے پیشِ نظر گھر پر ہی عبادت کر لی جائے تو یہ زیادہ بہتر عمل ہے۔ کاش یہ مذہبی سکالرز اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف سچےدین کا پرچار کریں۔ عوام الناس کو فرقہ واریت کی اس دلدل سے نکالیں۔
ربِ کائنات نے ہمیں اپنی مقدس کتاب
ربِ کائنات نے ہمیں اپنی مقدس کتاب
میں فرمایا ہے کہ
تو خدا کےلئے سوچئیے کہ دُنیاوی مال و شہرت کے لئے ہم قوم میں تفرقہ بازی کا بیج تو نہیں بو
رہے۔ جس کی سزا ہمیں قبر کے عذاب
اور دوزخ کی شکل میں ملے
میری تمام مسلمانوں بھائیوں سے صرف اتنی سی التماس ہے کہ بھائی چارے کی فضا کو تفرقہ بازی کی نذر مت کریں۔ پھر دیکھیں کہ زندگی کس قدر حسین ہے






very good
ReplyDelete