کرونا کی وبا اور دُنیاوی خُدا




کرونا کی وبا  اور دنیاوی خُدا
جی ایچ سعید
لفظ             "            شِرک  "کے لغوی معنی ہیں حصہ یا ساجھا ۔ لہذا شریک کے معنی ہیں حصہ دار یا ساجھی !
قرآنِ کریم میں ربِ کائنات نے فرمایا ہے کہ
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّـذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ؕ اَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَـهُـمْ شِرْكٌ فِى السَّمَاوَاتِۚ کہہ دو کیا تم نے اپنے ان معبودوں کو بھی دیکھا جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا ان کا کچھ حصہ آسمانوں میں بھی ہے (  پارہ 22 سورۃ فاطر: 40)
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ افْـتَـرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا ۔ بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک ٹھہرائے اور شرک کے علاوہ دوسرے گناہ جسے چاہے بخشتا ہے، اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا ہی گناہ کیا     (سورۃ النساء :48
 وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْـرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ       مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا ہی لگے (سورۃ البقرہ 221
لَا تُشْرِكْ بِاللّـٰهِ ۖ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِـيْمٌ  اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے
مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعْمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ بِالْکُفْرِؕ  مشرکوں کو یہ حق نہیں کہ اللہ کی                                                         مسجد یں آباد کریں اپنے پر کفر کی گواہی دیتے ہوئے ۔ (پ10،التوبۃ:)17
اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ نَصْرَ اَنۡفُسِہِمْ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصْحَبُوۡنَ ۔
ترجمہ : کیا ان کے کچھ خدا ہیں جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں وہ اپنی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طر ف سے ان کی کوئی یاری ہو۔(پ17،الانبیآء:43
اس آیت میں مشرکین کے اسی عقیدے کی تردید کی ہے کہ ہمارے معبود ہمیں خدا سے مقابلہ کر کے بچاسکتے ہیں
شرک کی حقیقت
شرک کی حقیقت رب تعالیٰ سے مساوات پر ہے یعنی جب تک کسی کو رب کے برابر نہ جانا جائے تب تک شرک نہ ہوگا اسی لئے قیامت میں کفار اپنے بتوں سے کہیں گے ۔
تَاللہِ اِنۡ کُنَّا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۔
ترجمہ : اللہ کی قسم ہم کھلی گمراہی میں تھے کہ تم کورب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے ۔ (پ19،الشعرآء:97)
اس برابر جاننے کی چند صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی کو خدا کا ہم جنس مانا جائے جیسے عیسائی عیسی علیہ السلام کو اور یہودی عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے چونکہ اولاد باپ کی ملک نہیں ہوتی بلکہ باپ کی ہم جنس اور مساوی ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ ماننے والا مشرک ہوگا
یہ سب کو معلوم ہے کہ ایک ربِ کائنات ہ کی واحدذات ہے جو ہر شے پر قادر ہے۔ اور اسے کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں، اس کے باوجود  بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ہر ذرہ کا خالق ومالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر وہ اتنے بڑے عالم کو اکیلا سنبھالنے پر قادر نہیں اس لئے اس نے مجبور اً اپنے بندوں میں سے بعض بندے عالم کے انتظام کے لئے چن لئے ہیں جیسے دنیاوی بادشاہ اور ان کے محکمے ، اب یہ بندے جنہیں عالم کے انتظام میں دخیل بنایا گیا ہے وہ بندے ہونے کے باوجود رب تعالیٰ پردھونس رکھتے ہیں کہ اگر ہماری شفاعت کریں تو رب کو مرعوب ہوکر ماننی پڑے اگر چاہیں تو ہماری بگڑی بنادیں، ہماری مشکل کشائی کردیں،جو وہ کہیں رب تعالیٰ کو ان کی ماننی پڑے ورنہ اس کا عالم بگڑجاوے جیسے اسمبلی کے ممبرکہ اگر چہ وہ سب بادشاہ کی رعایا تو ہیں مگر ملکی انتظام میں ان کو ایسا دخل ہے کہ ملک ان سب کی تدبیر سے چل رہا ہے ۔ یہ وہ شرک ہے جس میں عرب کے بہت سے مشرکین گرفتا ر تھے اور اپنے بت ودّ ، یغوث، لات ومنات وعزی وغیرہ کو رب کا بندہ مان کر اور سارے عالم کا رب تعالیٰ کو خالق مان کر مشرک تھے ۔ اس عقیدے سے کسی کو پکارنا شرک ، اس کی شفاعت ماننا شرک، اسے حاجت روا مشکل کشا ماننا شرک ، اس کے سامنے جھکنا شر ک، اس کی تعظیم کرنا شرک ، غرضیکہ یہ برابری کا عقیدہ رکھ کر اس کے ساتھ جو تعظیم وتو قیر کا معاملہ کیا جاوے وہ شرک ہے
صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بیشمار خود ساختہ دربار، مورتیاں، مجسمے یا بُت ہیں جن کی نہ صرف پوجا پاٹ کی جاتی ہے بلکہ ان کے حضور انواع و اقسام کےنذرانے بھی پیش کیے جاتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سجدہ بھی کیا جاتا ہے اور پاکستان میں تو سنا ہے کہ کچھ ایسے درباربھی ہیں جہاں پر لوگ باقاعدہ طواف اور حج بھی کرتے ہیں۔
اس کی روک تھام کے لئے بھلے جتنی دل چاہے دلیلیں دے لو، کوئی نہیں مانے گا۔ چونکہ ان تمام درباروں پر متولی اور کسی نہ کسی صورت فائدہ اٹھانے والے بیٹھے ہوئے ہیں، وہ ان دربار والوں کی جھوٹی کرامات بیان کرکر کے اِن کو پروموٹ کرتے ہیں، اگر وہ ایسے نہ کریں توماہانہ لاکھوں کروڑوں روپےکیسے کمائیں گے؟ انہیں بھی پتہ ہے کہ ان درباروں سے کبھی کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن جس طرح کوئی اپنی منافع بخش فیکٹری یا کاروبار بند نہیں کرتا، اسی طرح یہ لوگ اپنی ان درباری فیکٹریوں کو کبھی بند نہیں کرینگے۔ اور ان خرافات کو پروموٹ کرنے میں بہت سے نام نہاد جاہل قِسم کے ان پڑھ مولوی حضرات بھی ہیں جو سرِ عام سٹیجوں پر ان کی جھوٹی کرامات کے قصے بیان کرکے ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْـرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّشْـرِكْ بِاللّـٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيْدًا ۔ سورۃ النساء: 116
ترجمہ : بے شک اللہ اس کو نہیں بخشتا جو کسی کو اس کا شریک بنائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے، اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تو وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا
بلاشبہہ  اللہ ہی ہر شے پر قادر ہے۔ جس کی واضح مثال تمام دنیا میں ان دنوں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وبا ہے کہ ہزاروں لوگ لقمئہ اجل بن گئے لیکن مسلمانوں کاکوئی پیر، کوئی گدی نشین،  ہندوؤں کے دیوتا ، پارسیوں کی آگ  اور دیگر خود ساختہ خدائی قوتوں کی حامل گردائے جانے والی  کوئی بھی چیز اس  خدائے یکتا کے غضب کو غصہ    کو ٹھنڈا نہ کرپائی تو مجبوری کے عالم میں ہر مذہب کا پیروکار اس پیدا کرنے والے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگیا۔ یہ ہے اس رب کی قوت و شان۔
سو  یہ زندگی عارضی ہے اور موت کی صورت میں اس کا خاتمہ بھی یقینی ہے اس کے بعد اس کائنات کے خالق کے حضور پیش ہونا بھی یقینی ہے ۔ لیکن سوچیں کہ  ایک موحد کی حیثیت سے یا ایک مشرک  کے طور پر؟
اگر آپ موحد ہیں اور خدائے واحد پر ہی  کامل یقین رکھتے ہیں تو پھر اس آرٹیکل کو لائک اور شیئر ضرور کریں ۔ آپ کے اس عمل سے ہوسکتا ہے کوئی صراۃِ مستقیم پر لوٹ آئے۔









Comments

Popular Posts